اسلام آباد/کراچی — وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فیصل آباد میں دیے گئے بیان نے ملک کی سیاسی اور عدالتی فضا میں ہلچل پیدا کر دی ہے، سندھ بار کونسل نے آج ہڑتال اور عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ "میرا پانی میرا پیسہ، کسی کو اس سے کیا تکلیف ہے؟ پنجاب کو مشورہ دینے والے اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔” انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت چاروں صوبوں کو یکساں وسائل ملتے ہیں اور یہ صوبوں پر ہے کہ وہ اپنے وسائل کہاں خرچ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "مانگنے والا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے، پنجاب نے کبھی دوسرے صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کی، دوسروں کو بھی پنجاب کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔”
مریم نواز کے ان ریمارکس پر سندھ بار کونسل نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بار کونسل نے اعلان کیا کہ آج عدالتوں میں مکمل ہڑتال ہوگی اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب فوری طور پر متنازع بیانات واپس لیں اور عوام سے معافی مانگیں، وکلاء برادری سندھ کے عوام کی توہین برداشت نہیں کرے گی۔
ادھر پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شدید احتجاج کیا۔ ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی پی رہنما نوید قمر نے کہا کہ "یہ میرا پانی میرا پیسہ کا کیا مطلب ہے؟” ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا لہجہ افسوسناک ہے، پنجاب میں حالیہ دنوں سیلاب آیا تو پہلی بار پنجاب کو اس صورتحال کا سامنا ہے لیکن سندھ کے عوام دہائیوں سے ان مشکلات سے نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات وفاق کی یکجہتی کو متاثر کرتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے ارکان نے دونوں ایوانوں سے واک آؤٹ کیا اور حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سندھ حکومت بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے ریمارکس پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرانے پر غور کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صوبوں کے درمیان تعلقات پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے اور مرکز و صوبوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

