اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر غزہ شہر کے تمام شہریوں کو علاقے سے نکلنے کا حکم دے دیا۔
وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ غزہ سٹی کے رہائشیوں کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ شمالی علاقے کو چھوڑ کر جنوبی غزہ پٹی کی طرف چلے جائیں۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اس کے بعد جو بھی شہری وہاں موجود رہا، اسے دہشت گرد یا دہشت گردوں کا حامی تصور کیا جائے گا اور اسے بھرپور طاقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
فلسطینی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً چار لاکھ افراد قحط زدہ غزہ شہر سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تاہم انخلا کرنے والے شہری بھی محفوظ نہیں، کیونکہ اسرائیلی فوج راستوں میں اندھا دھند بمباری جاری رکھتی ہے جس کے نتیجے میں بے شمار افراد شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔
متاثرہ شہری حسین الدل نے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ *”ہم گھروں سے ننگے پاؤں نکلے، اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث ہم بچا کچا سامان بھی نہیں اٹھا سکے”*۔
اسرائیلی وزیر دفاع کی تازہ دھمکی نے غزہ کے شہریوں میں مزید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کو جبری نقل مکانی اور اجتماعی سزا قرار دے رہی ہیں۔

