اسلام آباد /سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود اچکزئی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں، ملک میں نئی شروعات کریں اور نئے عام انتخابات کرائے جائیں۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں محمود اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے اور اگر دیگر جماعتیں اس پر دستخط کر دیں تو وہ عمران خان کو لانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو وہ اور ان کا اتحاد "طاقت کے ذریعے تبدیلی” لانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے آزاد کشمیر کے حوالے سے کہا کہ وہاں حقیقی قیادت کے نفاذ کے لیے نئے انتخابات ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ شفاف اور بروقت انتخابی عمل کے ذریعے ہی عوامی نمائندگی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے قومی معیشت کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معیشت جبر سے نہیں چل سکتی اور مہنگائی کے تیزی سے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گندم کا بحران سر اٹھا رہا ہے اور حکومت کو فوری طور پر اقتصادی پالیسیاں درست کرنی ہوں گی۔
محمود اچکزئی کے مطالبے اور ان کے بیان میں شامل ممکنہ ہتھیار بند اشارے کے بعد سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومتی حلقوں یا متعلقہ جماعتوں کی جانب سے اس موقف پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں اس ماڈل پر اتفاق کر لیں تو سیاسی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، تاہم آئینی اور قانونی طریقہ کار کی پاسداری ہی طویل مدتی استحکام کے لیے ناگزیر ہوگی۔

