پاکستانی اداکارہ اور پروڈیوسر عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں کم عمری میں قدم رکھنے کے بعد انہیں بہت سے کٹھن تجربات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بعض لوگ اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔
ایک کامیڈی شو میں بطور مہمان گفتگو کے دوران عائشہ عمر نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ کم عمر تھیں اور ایک خوش مزاج و کھلنڈری سی لڑکی کے طور پر نظر آتی تھیں، اس لیے اکثر لوگ انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے۔ اس صورتحال میں انہوں نے خود کو کمزور ظاہر نہ ہونے دینے کے لیے سخت رویہ اپنایا تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ وہ مضبوط ہیں۔
عائشہ عمر نے کہا کہ بہت سارے مرد حضرات حدیں پار کرنے کی کوشش کرتے تھے، مگر انہیں اپنا دفاع کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب وہ لاہور سے کراچی منتقل ہوئیں اور اکیلی زندگی گزارنے لگیں تو یہ رویہ اور بھی ضروری ہوگیا کیونکہ اکثر اکیلی لڑکی کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے انہیں اپنے طرز عمل میں مزید سختی لانا پڑی تاکہ دوسروں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گی۔
اداکارہ نے شو میں اپنے کیریئر کے دوران ہونے والی چند غلطیوں کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بعض ایوارڈ شوز میں پرفارم کیا جن کی ادائیگی آج تک مکمل نہیں ہو سکی۔ عائشہ عمر کے مطابق شوبز انڈسٹری میں نئے فنکاروں کے ساتھ اکثر مالی اور پیشہ ورانہ سطح پر ایسے مسائل پیش آتے ہیں جن سے سیکھنے اور مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
عائشہ عمر کے اس انکشاف نے شوبز کی دنیا میں نئے آنے والے فنکاروں کے مسائل اور مشکلات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ کم عمری میں اس میدان میں قدم رکھنے والوں کو نہ صرف پیشہ ورانہ چیلنجز بلکہ ذاتی سطح پر بھی کئی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

