غزہ جنگ بندی میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر اور مصر نے ٹرمپ منصوبے پر حماس کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق قطر صدر ٹرمپ کے فوری جنگ بندی کے مطالبے کی بھی حمایت کرتا ہے تاکہ غزہ میں جاری خونریزی کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی محفوظ رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
قطر نے مزید کہا کہ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے منصوبے پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے مصر اور امریکا سے باضابطہ رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مصر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کے غزہ پلان پر حماس کے ردعمل کے بعد مثبت پیش رفت کی امید ہے۔ مصر نے واضح کیا کہ عرب ممالک، امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ٹرمپ پلان پر حماس کے بیان کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین کو جنگ کے خاتمے کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ غزہ میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

