تل ابیب: اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاج ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ ہزاروں شہری دارالحکومت تل ابیب کی سڑکوں پر نکل آئے، جہاں انہوں نے غزہ جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی فوری رہائی کے لیے نعرے بلند کیے۔ احتجاج میں شامل مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ مسلسل دو سال سے جاری خونریزی سے تنگ آ چکے ہیں اور اب اسرائیل کو جنگ نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے۔
احتجاجی ریلی کا مرکز ہاسٹیجز اسکوائر تھا، جہاں مظاہرین نے "جنگ بند کرو” اور "یرغمالیوں کو واپس لاؤ” جیسے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر شرکاء نے حکومت کی پالیسیوں کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کی قیادت میں نہ صرف اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی شدید تقسیم کا سامنا کر رہا ہے۔ مظاہرین کے مطابق، حکومت نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر حکمتِ عملی نہیں اپنائی اور موجودہ طرزِ عمل نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔
مظاہرے میں شریک کئی شہریوں نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، مگر حکومت کی ناکامی نے ان کے زخموں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلسل جنگ نے اسرائیلی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور عام شہریوں کا طرزِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے تل ابیب کے مرکزی علاقوں میں سخت انتظامات کر رکھے تھے، تاہم احتجاج پُرامن رہا۔ پولیس کے مطابق، مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جن میں جنگ مخالف تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متاثرہ خاندانوں کے نمائندے شامل تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، نیتن یاہو حکومت کو اندرونی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ عوام جنگی پالیسیوں سے مایوس ہو چکے ہیں اور اب حکومت پر امن مذاکرات کی بحالی کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات پر توجہ نہ دی تو آنے والے ہفتوں میں احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

