برطانیہ: چین کی مشہور الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی BYD نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ میں اس کی گاڑیوں کی فروخت گزشتہ ماہ سالانہ بنیادوں پر حیران کن طور پر 880 فیصد بڑھ گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق، صرف ستمبر کے دوران 11 ہزار 271 نئی گاڑیاں فروخت کی گئیں، جو کہ برطانوی مارکیٹ میں ایک نیا ریکارڈ ہے اور کمپنی کے لیے یورپ میں غیر معمولی کامیابی کا سنگ میل ثابت ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ اب چین کے بعد BYD کے لیے سب سے بڑی بیرونی منڈی بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے چین سے درآمد ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر کسی قسم کا اضافی محصول یا ڈیوٹی عائد نہ کرنا اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے برعکس، امریکہ اور یورپی یونین نے چینی کمپنیوں پر اضافی ٹیرف لگا رکھا ہے جس سے ان کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
BYD کی گاڑیاں ٹیسلا، ووکس ویگن اور دیگر مغربی کمپنیوں کے مقابلے میں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہیں، لیکن جدید فیچرز، بہتر بیٹری ٹیکنالوجی اور طویل رینج کی بدولت برطانوی صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے کمپنی نے برطانیہ میں اپنی پوزیشن کو 3.6 فیصد تک بڑھا لیا ہے، جو پچھلے سال محض 0.4 فیصد تھی۔
کمپنی کے یو کے جنرل منیجر بونو جی نے کہا کہ BYD آنے والے مہینوں میں نئے ہائبرڈ اور الیکٹرک ماڈلز متعارف کرانے جا رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، کمپنی کی حکمتِ عملی پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ، سستی قیمتوں اور صارفین کے اعتماد پر مبنی ہے۔ بونو جی نے مزید بتایا کہ حال ہی میں BYD نے برطانیہ میں اپنا 100 واں ریٹیل آؤٹ لیٹ بھی کھولا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف گاڑیوں کی فروخت بلکہ سروس نیٹ ورک میں بھی خاطر خواہ وسعت آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو BYD آئندہ دو سالوں میں برطانیہ کی ٹاپ تین الیکٹرک گاڑی ساز کمپنیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ برطانوی آٹو انڈسٹری کے لیے یہ پیش رفت نہ صرف چینی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی الیکٹرک کار مارکیٹ میں مقابلہ اب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو چکا ہے۔

