ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹی سے ممبئی پولیس کی اکنامک آفینس وِنگ نے 60 کروڑ روپے کے مبینہ مالیاتی اسکینڈل کے سلسلے میں کئی گھنٹے پوچھ گچھ کی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پولیس نے شلپا شیٹی کو اس کیس میں طلب کیا تھا جو ایک بڑے سرمایہ کاری اسکینڈل سے متعلق ہے، جس میں ان کے شوہر راج کنڈرا کے کاروباری منصوبے پر متعدد افراد نے سرمایہ کاری کی تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے عوام سے بھاری رقوم وصول کی گئیں، مگر بعد میں وعدے پورے نہیں کیے گئے، جس کے باعث متعدد متاثرین نے شکایات درج کروائیں۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرمایہ کاروں سے یہ رقم مختلف ڈیجیٹل پروجیکٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز کے نام پر حاصل کی گئی۔ تاہم، بعد میں ان منصوبوں پر کوئی عملی کام شروع نہیں کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، کئی متاثرہ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شلپا شیٹی بطور پارٹنر یا سرمایہ کار ان کمپنیوں سے منسلک تھیں، جس پر اب ان کا بیان قلمبند کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، شلپا شیٹی سے پولیس نے تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک تفصیلی سوالات کیے، جن میں ان کے مالی لین دین، کمپنیوں کے معاہدات اور راج کنڈرا کے ساتھ ان کے کاروباری تعلقات سے متعلق پوچھا گیا۔ تفتیش کاروں نے ان کے دستخط شدہ بعض دستاویزات بھی حاصل کیں تاکہ ان کے کردار کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس کے ایک افسر کے مطابق، اس کیس میں راج کنڈرا کو بھی آئندہ دنوں میں دوبارہ بلایا جائے گا تاکہ دونوں کے بیانات کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔ تحقیقات کے دوران ممکنہ منی لانڈرنگ کے پہلوؤں کو بھی زیرِ غور رکھا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شلپا شیٹی کا کردار صرف برانڈ ایمبیسیڈر یا محدود سرمایہ کار کا ثابت ہوا تو ان کے خلاف کارروائی محدود رہے گی، تاہم اگر ان کی شمولیت براہِ راست منافع یا سرمایہ کاری فیصلوں میں ثابت ہوئی تو معاملہ سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ راج کنڈرا کسی قانونی تنازع میں ملوث پائے گئے ہوں۔ اس سے قبل وہ 2021 میں فحش مواد سے متعلق ایک کیس میں گرفتار ہو چکے ہیں، جس کے بعد انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اس وقت بھی شلپا شیٹی کا نام اس کیس میں بطور شریک ملزم شامل نہیں کیا گیا تھا، تاہم انہیں گواہ کے طور پر طلب کیا گیا تھا۔
فی الحال ممبئی پولیس اس کیس کی مزید چھان بین کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حتمی فیصلہ پولیس رپورٹ مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا کہ شلپا شیٹی کے خلاف براہِ راست قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے یا نہیں۔

