لاہور: پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے صوبے میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اسموگ کی وجوہات اور اثرات کا تفصیلی تجزیہ کر کے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا ہے، جس پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس اسموگ کے دوران پنجاب حکومت کے پاس مناسب ڈیٹا اور مانیٹرنگ سسٹم موجود نہیں تھا، جس سے فیصلوں میں مشکلات پیش آئیں۔ تاہم اب حکومت نے جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے اسموگ کی نگرانی اور فضائی معیار کے بارے میں حقیقی وقت کا ڈیٹا حاصل کرنے کا نظام قائم کر دیا ہے، جو اسموگ سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں مدد دے رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسموگ کا مسئلہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انسانی صحت سے براہِ راست منسلک ہے، اسی لیے متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے گرین ٹرانسپورٹ، قابلِ تجدید توانائی اور ماحول دوست اقدامات کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔
پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹ، صنعتوں اور زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ فصلوں کے فضلے کو جلانے سے روکنے کے لیے کسانوں کو سپرسیڈر مشینیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔
سینئر وزیر کے مطابق، گاڑیوں میں ایگزاسٹ مانیٹرنگ آلات نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی بنیاد پر فٹنس سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں ای-بائیکس اور ای-بسیں متعارف کروائی جا رہی ہیں تاکہ روایتی ایندھن پر انحصار کم اور فضائی آلودگی میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کی صحت اور ماحول کا تحفظ ہے، اور اس مقصد کے لیے نہ صرف نگرانی کے نظام کو جدید بنایا گیا ہے بلکہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھی خصوصی مہمات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

