قاہرہ: غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے پر اپنا تفصیلی مؤقف اور شرائط پیش کر دی ہیں۔
حماس کے رہنما فوزی برھوم نے کہا کہ تنظیم کسی ایسے معاہدے کی حامی نہیں ہو سکتی جو فلسطینی عوام کی خواہشات اور خودمختاری کے منافی ہو۔ ان کے مطابق حماس کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی، بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، قیدیوں کا منصفانہ تبادلہ اور غزہ کی تعمیر نو کے جامع اقدامات شامل ہیں۔
فوزی برھوم نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ امن مذاکرات کو جان بوجھ کر سبوتاژ کر رہے ہیں تاکہ جنگ کو طول دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے مسلسل حملے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مذاکرات کے مقصد کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مصری حکومت کی میزبانی میں جاری ان مذاکرات میں قطر، اردن اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کسی ابتدائی فریم ورک پر متفق ہو جاتے ہیں تو آئندہ ہفتے ایک عبوری معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
ادھر واشنگٹن سے جاری بیان میں امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ مذاکرات کے عمل کو سہولت فراہم کر رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ “امن کا راستہ باہمی اعتماد اور عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔”
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حماس کی شرائط کو کسی حد تک تسلیم کیا گیا تو غزہ میں دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم نیتن یاہو حکومت کی سخت گیر پالیسیوں کے باعث معاہدے تک پہنچنا اب بھی ایک مشکل چیلنج ہے۔

