غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل اور شفاف عمل درآمد کا پابند بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کے بعد سامنے آیا، جو غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حماس نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ معاہدے کے تحت غزہ میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا انخلا، انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی، اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں۔ تنظیم نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ صرف اسی صورت میں پائیدار ثابت ہوگا جب اسرائیل اس کی تمام شقوں پر بلا تاخیر عمل کرے اور کسی بھی قسم کی وعدہ خلافی یا تاخیر سے گریز کرے۔
حماس نے امریکی صدر، عرب ثالثوں اور بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ معاہدے کی روح کے مطابق تمام ذمہ داریاں پوری کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی انحراف یا تاخیر کی صورت میں خطے میں نیا تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔
تنظیم نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس اپنے وعدے پر قائم رہے گی اور اپنے عوام کے آزادی، خود مختاری اور حقِ خودارادیت کے اصولوں سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی عوام نے طویل جدوجہد کے بعد امن کی طرف قدم بڑھایا ہے، لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی ہر شق کی نگرانی یقینی بنائے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس نے حال ہی میں امریکا کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر باضابطہ طور پر دستخط کیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ اسرائیلی فوج غزہ سے متفقہ لائن کے مطابق انخلا کرے گی۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ اگر مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل اور خونی تنازع کے خاتمے کی جانب تاریخی پیش رفت ہوگی، تاہم اصل آزمائش اس وقت شروع ہوگی جب دونوں فریق اپنی ذمہ داریوں پر عملی طور پر کاربند ہوں گے۔

