راولپنڈی: تحریک لبیک کے اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ کے پیشِ نظر انتظامیہ نے شہر بھر میں سکیورٹی سخت کر دی ہے اور فیض آباد کے اطراف حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحریک لبیک نے 10 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے فیض آباد کے نواح میں کنٹینرز تعینات کر دیے ہیں تاکہ ممکنہ مظاہروں کی وجہ سے سڑکیں بلاک نہ ہو سکیں اور امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ مری روڈ اور فیض آباد کے ہوٹلوں کو خالی کرانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے راستے فی الحال کھلے رکھے گئے ہیں مگر صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس معاملے پر سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی زیرصدارت امن و امان سے متعلق سینئر پولیس افسران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سکیورٹی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا۔ سی پی او نے واضح کہا کہ کسی بھی سڑک کو بلاک کرنے یا ٹریفک میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے والی کسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاج کی آڑ میں پرتشدد کارروائیوں کو ہر صورت میں روکا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سیکورٹی فورسز نے حساس مقامات، شاہراہوں اور سرکاری عمارات کے قریب نگرانی بڑھا دی ہے اور ممکنہ ہنگامی حالات کے پیشِ نظر اضافی نفری اور وسائل تعینات کیے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ کوشش ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات پہنچتی رہیں اور کسی بھی قسم کے اشتعال یا تشدد کے امکانات کو پہلے سے ہی ناکام بنایا جائے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک انتظامیہ اس قسم کے کسی بھی پلاننگ مظاہرے میں پیشگی تیاری کر کے امن و امان کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ معاشی اور معاشرتی معمولات میں خلل سے بچنے کے لیے انتظامیہ شہریوں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ ضروری ہدایات پر عمل کریں اور پولیس و انتظامیہ کے تعاون کو یقینی بنائیں۔

