غزہ: فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور مستقل امن کے معاہدے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج کے دن فلسطینیوں کے لیے ایک نیا باب کھل گیا ہے، کیونکہ اس معاہدے کے تحت نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے بلکہ اس کے پائیدار امن میں تبدیل ہونے کی ضمانت بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق ثالث فریقوں اور امریکی انتظامیہ نے اس معاہدے کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کرا دی ہے، جس سے خطے میں برسوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ خلیل الحیہ نے کہا کہ معاہدے کے تحت اسرائیل تمام فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کرے گا جبکہ دیگر قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی مرحلہ وار عمل شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدے میں رفاح کراسنگ کو دونوں اطراف کے لیے کھولنے کی شق شامل کی گئی ہے تاکہ انسانی امداد، تجارتی سامان اور عام شہریوں کی نقل و حرکت بحال ہو سکے۔ حماس کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ غزہ کے عوام کو طویل عرصے بعد معمولات زندگی کی بحالی کا موقع بھی ملے گا۔ خلیل الحیہ نے بین الاقوامی برادری اور ثالث ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کا پابند بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر یا وعدہ خلافی سے بچا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ اسرائیل اور حماس نے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت تمام یرغمالیوں کو جلد از جلد رہا کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک ایسے دور کی شروعات ہے جو مشرق وسطیٰ میں مضبوط، پائیدار اور دیرپا امن کی بنیاد رکھے گا۔ ٹرمپ نے قطر، مصر اور ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے ثالثی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی افواج ایک متفقہ لائن تک پیچھے ہٹیں گی تاکہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں شہری زندگی بحال ہو سکے۔ ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے مطابق یرغمالیوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جائے گا اور دونوں جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت تمام قیدیوں کی فہرستوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ حماس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف جنگ کے خاتمے بلکہ اسرائیلی انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور تعمیر نو کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا۔
غزہ میں عوام نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور کئی شہروں میں لوگ گھروں سے نکل کر جشن مناتے دکھائی دیے۔ مقامی ذرائع کے مطابق فلسطینی عوام کے چہروں پر طویل عرصے بعد امید کی جھلک دیکھی گئی، جبکہ مختلف تنظیموں اور عالمی رہنماؤں نے اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ اپنے تمام مراحل پر عمل پذیر ہوتا ہے تو یہ نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے میں ایک نئے سیاسی اور سماجی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

