اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اپنی جدید موبائل ایپلی کیشن پاک آئی ڈی کے ذریعے شناختی کارڈ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) اور دیگر اہم دستاویزات کے حصول کا پورا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا ہے، جس کے بعد شہریوں کو اب نادرا دفاتر کے طویل چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہی۔
نادرا کے ترجمان سید شباہت علی کے مطابق، پاک آئی ڈی ایپ نے عوام کے لیے شناختی خدمات کے روایتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے اب شہری گھر بیٹھے اپنی شناختی درخواست مکمل کر سکتے ہیں، جس میں بائیومیٹرک تصدیق، دستاویزات کی اپ لوڈنگ، فیس کی ادائیگی اور درخواست کی ٹریکنگ جیسے تمام مراحل شامل ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ سہولت نہ صرف شہریوں کا قیمتی وقت بچا رہی ہے بلکہ نادرا کے دفاتر پر بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایپ متعارف ہونے کے صرف تین ماہ کے دوران اب تک 12 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ صارفین اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ نادرا کے مطابق، یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی شہری تیزی سے ڈیجیٹل شناختی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایپ کی مقبولیت کے باعث یہ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی عوامی سروسز میں سے ایک بن چکی ہے۔
ترجمان کے مطابق، اس وقت پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے روزانہ اوسطاً 10 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے جا رہے ہیں، جن میں قومی شناختی کارڈ کی تجدید، نئے کارڈ کا حصول، اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی فراہمی شامل ہے۔ ان کے مطابق، نادرا کے مرکزی ڈیٹا سسٹم سے یہ ایپ براہِ راست منسلک ہے جس کی بدولت تمام درخواستیں محفوظ، شفاف اور فوری پروسیسنگ کے تحت نمٹائی جاتی ہیں۔
سید شباہت علی نے مزید بتایا کہ اس ڈیجیٹل سہولت کے آغاز کے بعد نادرا کو آن لائن درخواستوں میں 45 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ شہریوں کا اعتماد ڈیجیٹل سسٹمز پر بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں بھی لوگ اب نادرا کی ای سروسز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، کیونکہ ایپ کی مدد سے وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے بغیر کسی اضافی اخراجات کے ساری کارروائی مکمل کر سکتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ نادرا آنے والے مہینوں میں پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے مزید سروسز متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں ڈیجیٹل شناخت کی توثیق، پاسپورٹ تجدید، اور دیگر سرکاری دستاویزات کے اجرا جیسے فیچرز شامل ہوں گے۔ نادرا کے مطابق، ان خدمات کے آغاز سے پاکستان ای گورننس اور اسمارٹ سروسز کی عالمی دوڑ میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکے گا۔
ماہرین کے مطابق، نادرا کی یہ ڈیجیٹل سروس پاکستان میں کاغذی کارروائی کے خاتمے اور مکمل ڈیجیٹل سرکاری نظام کی بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے حکومت شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شفافیت، تیزرفتاری، اور کرپشن کے خاتمے کی جانب بھی ایک اہم قدم اٹھا رہی ہے، جو مستقبل میں پاکستان کو جدید ڈیجیٹل ریاستوں کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے۔

