اسلام آباد: اسرائیل کی قید سے رہائی کے بعد وطن واپس آنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعتِ اسلامی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے اپنے استعفیٰ کی باقاعدہ تصدیق کی اور بتایا کہ انہوں نے 19 ستمبر کو ہی گلوبل صمود فلوٹیلا کے سفر کے دوران جماعتِ اسلامی کی قیادت کو اپنا استعفیٰ ارسال کر دیا تھا۔ تاہم ان کے بقول، ابھی تک جماعت کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ فلوٹیلا مشن کے دوران فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے بحیرہ روم کی سمت جا رہے تھے تو انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنی جدوجہد کو مزید آزاد اور وسیع دائرہ کار میں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات تنظیمی حدود اور داخلی ڈھانچے انسان کی آزادیِ اظہار اور عمل پر قدغن لگاتے ہیں، جبکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک کارکن یا سیاست دان کے لیے سب سے بڑی طاقت اس کی فکری خودمختاری اور انسانی ہمدردی پر مبنی جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی ذاتی تنازع، اختلاف یا ناراضی کے باعث نہیں بلکہ ایک وسیع تر اور خودمختار انداز میں کام کرنے کی خواہش کے تحت جماعت سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ انسانی حقوق، جمہوریت، میڈیا کی آزادی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، فلسطین کے مظلوم عوام کے حقِ خود ارادیت اور وفاقی اکائیوں کے آئینی حقوق کے لیے غیر جماعتی بنیادوں پر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اصولی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک ایسا سیاسی و سماجی ماحول پروان چڑھے جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، عوامی حقوق کو سرفہرست رکھا جائے اور مذہب یا سیاست کے نام پر عوامی مسائل کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ ان کا وژن ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں عدل و انصاف، شفافیت، اور انسانی احترام کو اولین ترجیح حاصل ہو۔
مشتاق احمد خان کا شمار جماعتِ اسلامی کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے سینیٹ میں اپنے دورِ قیادت کے دوران انسانی حقوق، مذہبی ہم آہنگی اور آئینی اصلاحات جیسے حساس موضوعات پر نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ بھی فکری سطح پر وابستہ رہے ہیں۔ سینیٹ میں ان کی تقاریر ہمیشہ اصولی، مدلل اور قومی مفاد پر مبنی سمجھی جاتی رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد خان کا استعفیٰ جماعتِ اسلامی کے لیے ایک فکری و تنظیمی دھچکا ہے، کیونکہ وہ خیبرپختونخوا اور قومی سیاست میں جماعت کا ایک معتبر اور مؤثر چہرہ تھے۔ ان کی علیحدگی سے نہ صرف جماعتِ اسلامی کے اندرونی حلقوں میں تجزیے اور مباحث کا آغاز ہوگا بلکہ ملک میں انسانی حقوق کے موضوع پر ان کا غیر جماعتی اور عالمی سطح پر سرگرم کردار ایک نئی سمت اختیار کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مشتاق احمد خان مستقبل میں بین الاقوامی انسانی حقوق فورمز، سول سوسائٹی نیٹ ورکس اور فلاحی پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں ایک غیر سیاسی مگر سماجی تحریک کے قیام کا بھی اعلان کر سکتے ہیں، جس کا مقصد پاکستان میں انسانی حقوق، آئینی احترام اور فلسطین و کشمیر جیسے عالمی تنازعات پر مؤثر آواز اٹھانا ہوگا۔

