واشنگٹن: امریکہ نے ایران کی مائع پیٹرولیم گیس اور پیٹروکیمیکل برآمدات سے وابستہ درجنوں افراد، اداروں اور جہازوں کے خلاف نئی پابندیاں عاید کر دی ہیں، جن کا مقصد ایران کی توانائی برآمدی سرشتے کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ اور محکمۂ خارجہ کے مشترکہ اعلان کے مطابق ان پابندیوں کا ہدف وہ نیٹ ورکس ہیں جو ایران کے تیل و پیٹروکیمیکل پیداوار کی عالمی ترسیل میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ ان میں چین کا ایک بندرگاہی ٹرمینل اور چین میں قائم ایک ریفائنری بھی شامل ہیں جن کے ذریعے ایران سے مبینہ طور پر بڑی مقدار میں پیٹرولیم مصنوعات منتقل کی گئی ہیں۔ محکمۂ خزانہ نے خاص طور پر شینڈونگ جِن چنگ پیٹروکیمیکل گروپ کا نام لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے 2023 سے ایران سے لاکھوں بیرل تیل خریدا اور اس تجارت کو ممکن بنایا۔ اسی طرح لِنشان پورٹ کے قریب واقع خام تیل ٹرمینل کو بھی پابندیوں کی زد میں رکھا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہاں ’شیڈو فلیٹ‘ کے زیرِ استعمال بحری جہاز لنگر انداز ہوتے رہے جن کے ذریعے ایرانی تیل بین الاقوامی منڈیوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔
سرکاری بیانات کے مطابق اس نئے پیکیج میں تقریباً چالیس مزید افراد اور ادارے شامل کیے گئے ہیں، جن میں پیٹروکیمیکل اشیاء کے بڑے خریدار، تجارت کے واسطے کام کرنے والی کمپنیاں اور ان کے اوپرونی انتظامی حلقے شامل ہیں۔ محکمۂ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں میں شامل افراد اور اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور امریکی شہری یا امریکی نظام کے زیرِ کنٹرول افراد کو ان اثاثوں میں کسی قسم کی دلچسپی رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں کے زیرِ کنٹرول کمپنیوں کو بھی خود بخود بلاک تصور کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ متعلقہ کاروباری شراکت دار اور بینکنگ نیٹ ورکس پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن کے بقول یہ اقدامات اسی پس منظر میں کیے گئے ہیں جب اقوامِ متحدہ نے ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کے باعث سابق پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران کی توانائی برآمدی مشین کے اہم عناصر کو نشانہ بنا کر اس کے مالی وسائل کمزور کرنا ہے تاکہ وہ اپنی خطی اور بین الاقوامی سرگرمیوں کے لیے مطلوبہ آمدنی حاصل نہ کر سکے۔ محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ جب تک ایران تیل کی آمدنی کو اپنے ’تباہ کن عزائم‘ کے لیے استعمال کرتا رہے گا، امریکا اپنے دباؤ اور حساب طلبی کی پالیسیاں جاری رکھے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا فوری مقصد ایران کی توانائی کی آمدنی کو محدود کرنا ہے مگر اس کے دور رس اثرات تجارت، شپنگ، بینکنگ اور توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ چین کی کمپنیاں اور بندرگاہی انفراسٹرکچر جو تہران کے ساتھ اقتصادی لین دین میں شامل رہے ہیں، اس پابندی کے بعد بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی اور انشورنس خدمات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ تیل بردار جہازوں کے آپریشنز پر سختی، ’شیڈو فلیٹ‘ کی نگرانی اور ٹریکنگ میں شفافیت پیدا کرنا بین الاقوامی اداروں اور ساحلی ریاستوں کے لیے نئے تقاضے پیدا کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران ممکنہ طور پر ایویشن، شپنگ رجسٹریشن یا ثالثی ٹرانزیکشنز کے ذریعے ان پابندیوں کو ٹالنے کی کوشش کرے گا، جس کی وجہ سے پابندیوں کا موثر نفاذ تکنیکی اور بین الاقوامی تعاون پر منحصر ہوگا۔ اس کے علاوہ، ایسے اقدامات چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی تناؤ بھی بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ان ممالک کی کمپنیاں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فہرستِ پابندیوں میں آئیں۔ دوسرے فریق جو ایران کے ساتھ قانونی یا نیم سرکاری تجارتی تعلقات رکھتے ہیں، اب اضافی جائزہ اور کنٹرول کے دائرے میں آئیں گے۔
مالیاتی شعبے میں یہ پابندیاں بینکنگ چینلز کو سخت کر سکتی ہیں—خاص طور پر وہ بینک جو پاورچیزرز یا پیٹروکیمیکل خریداروں کو مالی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ امریکی پابندیوں کے اثر سے بین الاقوامی بینکنگ نیٹ ورک میں ایران سے منسلک لین دین کے خلاف محتاط رویہ مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کا نتیجہ متعدد کمپنیوں کے لیے کاروباری لاگت میں اضافہ اور رسدِ تجارت میں تاخیر کی صورت میں نکلے گا۔ اس کے ساتھ ہی جہاز رانی اور انشورنس انڈسٹری پر بھی پڑنے والے اثرات فراہم کنندگان کو جہازوں کی رجسٹریشن اور روٹسمیں تبدیلیوں پر مجبور کر سکتے ہیں۔
عالمی تیل منڈیوں پر اثرات کے سلسلے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر ایران کی برآمدی سلسلے پر طویل المدت رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال بڑھے تو برآمدی حجم میں کمی بین الاقوامی رسد کو متاثر کر سکتی ہے اور قیمتوں میں عارضی اتار چڑھاؤ دکھائی دے سکتا ہے، مگر اس کا انحصار دیگر بڑے سپلائرز جیسے سعودی عرب، روس اور خلیجی ریاستوں کی پیداوار کی سطح اور عالمی ذخائر پر بھی ہوگا۔
قانونی اور تجارتی نقطۂ نظر سے پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی بھی فریق نے ان کمپنیوں یا جہازوں کے ساتھ کاروبار جاری رکھا وہ ممکنہ طور پر امریکی قوانین کے تحت مالی و قانونی خطرات کا سامنا کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے ریگولیٹری، قانونی اور تکمیلی جانچ (due diligence) کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور انہیں متبادل سپلائی چین یا تجارتی راستے ڈھونڈنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
حتمی طور پر یہ پابندیاں امریکی دباؤ کی ایک تازہ کڑی ہیں جس کا مقصد ایران کے اہم معاشی راستوں کو نشانہ بنا کر اس کے عالمی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کو محدود کرنا ہے۔ تاہم اس پالیسی کے طویل المدت نتائج کا دارومدار علاقے میں سیاسی، اقتصادی اور سفارتی ردعمل کے ساتھ ساتھ پابندیوں کے نفاذ کی انسداد صلاحیت اور بین الاقوامی شراکت داری کی کارکردگی پر ہوگا۔

