اسلام آباد میں مذہبی تنظیم کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
مذہبی جماعت نے وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے باعث انتظامیہ نے شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس بھی متاثر ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے میں شہریوں کو دشواری پیش آ رہی ہے۔ اسی دوران راولپنڈی کے متعدد نجی تعلیمی اداروں میں بھی چھٹی دے دی گئی ہے۔
دوسری جانب وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل انٹرنیٹ سروس تاحکمِ ثانی بند رکھنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو خط ارسال کر دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں تھری اور فور جی انٹرنیٹ سروسز رات 12 بجے سے اگلے احکامات تک معطل رہیں گی۔
وزارت داخلہ کے خط میں کہا گیا ہے کہ موبائل انٹرنیٹ کی بندش سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کی گئی ہے، اور اس حوالے سے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وزیرِ داخلہ کی جانب سے پی ٹی اے کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ اسلام آباد کے کمشنر، آئی جی اور آر پی او راولپنڈی کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ادھر لاہور میں بھی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں فوری طور پر چھٹی دے دی گئی ہے۔ سی ای او ایجوکیشن لاہور کے مطابق راستوں کی بندش کے باعث اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کی گئی ہیں، جبکہ والدین کو اسکول انتظامیہ کی جانب سے مطلع کر دیا گیا ہے۔

