واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اتوار کو مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور امید ہے کہ پیر یا منگل کو یرغمالیوں کی رہائی کے موقع پر اسرائیل میں موجود ہوں گے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ سے کسی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا اور غزہ امن منصوبہ تمام فریقین کی حمایت سے طے پایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فن لینڈ کے صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد اتوار کو مشرقِ وسطیٰ روانہ ہوں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد آئندہ کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یرغمالی پیر یا منگل تک واپس آجائیں گے اور غالب امکان ہے کہ وہ اس موقع پر اسرائیل میں موجود ہوں گے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اسرائیل آئندہ ایک سال کے دوران سعودی عرب سے تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب ہو جائے گا؟ تو ٹرمپ نے جواب دینے سے گریز کیا۔
نوبل امن انعام سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے دنیا بھر میں تنازعات کے حل کے لیے 8 معاہدوں کی میزبانی کی، جن میں غزہ میں ہونے والا جنگ بندی معاہدہ سب سے اہم اور بڑا سمجھا جا رہا ہے۔
