واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات مکمل طور پر ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ چین کی جانب سے امریکی سویابین کی خریداری اچانک بند کرنا دانستہ اقدام ہے، جو براہِ راست امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ “چین نے جان بوجھ کر امریکی کسانوں کے خلاف معیشت دشمنی کی ہے، ان کے رویے کی وجہ سے ہمارے کسانوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اگر چین نے تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی جاری رکھی تو امریکا کوکنگ آئل سمیت دیگر مصنوعات کی درآمد بند کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم آسانی سے اپنا کوکنگ آئل خود تیار کر سکتے ہیں، ہمیں چین سے خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
امریکی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت ملکی صنعت کو فروغ دینے، کسانوں کو تحفظ دینے اور چین پر انحصار کم کرنے کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا واقعی چین سے تجارتی تعلقات ختم کرتا ہے تو یہ عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 600 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حالیہ سخت پالیسی 2025 کے صدارتی انتخابی مہم میں چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے سلسلے کی کڑی بھی ہو سکتی ہے۔

