کاکول: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی عبوری قیادت اور بھارتی فوجی حکام دونوں کو دوٹوک پیغامات دیے۔
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں کہا کہ طالبان رجیم کو ان پراکسیز کو لگام ڈالنی چاہیے جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کا فتنۃ الہند اور فتنہ الخوارج کو “ہائرڈ گنز” کے طور پر استعمال کرنا اس کے بزدلانہ چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دائمی تشدد اور پراکسی جنگوں کا سلسلہ صرف خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جا رہا ہے، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ باہمی سلامتی اور پائیدار امن کو ترجیح دیں۔ فیلڈ مارشل نے زور دے کر کہا کہ افغان طالبان حکومت کو ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے جنہوں نے افغانستان میں پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں اور وہاں سے پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ دشمن کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو، پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ "کریڈیبل ڈیٹرنس” اور دائمی تیاری پر مبنی ہے، جس میں تمام ممکنہ خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پاک فوج ایک پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوج ہے جس نے روایتی میدان میں ہمیشہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو پاکستان کا ردِعمل دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایسی دفاعی صلاحیت موجود ہے جو کسی بھی جارح قوت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اور ہمارے ہتھیار بھارت کے اس من گھڑت جغرافیائی تحفظ کے تصور کو ختم کر دیں گے جو وہ برسوں سے پروان چڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی اور اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے۔ فیلڈ مارشل نے بھارتی فوجی قیادت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا بھارت کو چاہیے کہ پاکستان کے ساتھ تمام بنیادی تنازعات بین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کرے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ دشمن کسی بھول میں نہ رہے، پاک فوج ہر محاذ پر چوکس ہے اور پاکستان کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے گا۔ ان کا یہ خطاب علاقائی امن، قومی سلامتی، اور دشمن کے عزائم کے خلاف ایک دوٹوک پالیسی بیان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق، فیلڈ مارشل کا یہ بیان پاکستان کی اس واضح پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی بھی بیرونی دباؤ یا پراکسی جنگ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔

