کراچی: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ متوقع مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 8 فروری کو کولمبو میں کھیلا جائے گا، جو ٹورنامنٹ کا دھواں دار آغاز ثابت ہوگا۔ شائقین کرکٹ اس میچ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، تاہم اسی دوران بھارت کی جانب سے ایک اور تنازعہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایشیا کپ کی ٹرافی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے وصول نہیں کرے گا۔ بھارتی بورڈ کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا کے مطابق اس حوالے سے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو باقاعدہ خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹرافی انہیں بذریعہ ڈاک بھیج دی جائے، بصورت دیگر وہ معاملہ آئی سی سی میں اٹھائیں گے۔
بھارتی موقف کے مطابق سری لنکا اور افغانستان نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب ایشین کرکٹ کونسل نے بھارت کو 10 نومبر کو تقریب میں ٹرافی وصول کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس معاملے پر قانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کر لی ہے تاکہ بی سی سی آئی کے کسی بھی ممکنہ غیر سنجیدہ اقدام کا مناسب جواب دیا جا سکے۔
ادھر اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے بھارتی بورڈ کو ایک تفصیلی جواب بھی ارسال کیا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے بھارت کی ایشیا کپ میں کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کرکٹ کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا خط اے سی سی کی سالانہ جنرل میٹنگ سے قبل موصول ہوا تھا، اور اس معاملے پر اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔
محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ چونکہ بی سی سی آئی نے اپنا خط دیگر رکن ممالک کو بھی ارسال کیا ہے، اس لیے ریکارڈ درست کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اے سی سی غیر جانبدار ادارہ ہے اور اس کے فیصلے تمام رکن ممالک کے اتفاقِ رائے سے کیے جاتے ہیں، اس لیے کسی ایک ملک کی ہٹ دھرمی یا سیاسی دباؤ تنظیم کے اصولوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ مؤقف غیر ضروری تنازعہ پیدا کر رہا ہے اور اس سے خطے میں کرکٹ تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب شائقینِ کرکٹ اس بات کے منتظر ہیں کہ دونوں ٹیمیں میدان میں ایک بار پھر آمنے سامنے آئیں اور کھیل کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی نئی راہ ہموار ہو۔

