پشاور: خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے ضلعی سطح پر ویمن پروٹیکشن کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے، جن کے لیے خواتین اراکین اسمبلی کو بطور ممبر نامزد کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق صوبائی اسمبلی نے ہر ضلع کے لیے خاتون رکن اسمبلی کو کمیٹی کی نمائندہ مقرر کیا ہے۔ ستارہ آفرین کو ڈی آئی خان، امن جلیل کو مہمند، مدینہ گل آفریدی کو خیبر، رابعہ شاہین کو کرم، نیلوفر بیگم کو بنوں اور ناہیدہ نور کو باجوڑ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اسی طرح عارفہ بی بی لوئر چترال، آمنہ سردار اپر و لوئر کوہستان اور پالس، جبکہ فائزہ ملک بٹگرام و تورغر کی نمائندگی کریں گی۔
مزید برآں افشاں حسین سوات اور شانگلہ، شازیہ جدون ہری پور، جمیلہ پراچ کوہاٹ، فرح خان لکی مروت اور اورکزئی، ثونیہ حسین مانسہرہ اور شازیہ طہماس مردان کے لیے ممبر نامزد کی گئی ہیں۔ مہر سلطانہ کرک و ہنگو، اشبر جدون چارسدہ، فرزانہ شاہین جنوبی وزیرستان، نادیہ شیر بونیر، خدیجہ بی بی اَپر دیر، شاہدہ وحید ملاکنڈ اور ثوبیہ شاہد شمالی وزیرستان کی نمائندگی کریں گی۔
خیبر پختونخوا میں ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2021 کے تحت ان کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تاکہ خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام اور متاثرہ خواتین کو فوری قانونی و سماجی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی نے اس قانون میں ترمیم پیش کی تھی جس کے بعد طے پایا کہ جن اضلاع میں خواتین ارکان اسمبلی موجود ہوں گی وہاں کمیٹی کی سربراہی بھی وہی خاتون ایم پی اے کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی آواز کو ضلعی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔

