اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے جیلوں میں قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی سے متعلق قانون کو بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے سنگل بینچ کے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت پابندی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، اب ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے سیاسی نوعیت کی بات چیت یا سرگرمیوں پر دوبارہ پابندی نافذ ہو گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ جیل ایک نظم و ضبط کا ادارہ ہے جہاں سیاسی مباحث یا سرگرمیوں کی اجازت دینا قیدیوں کے نظم، سیکیورٹی اور مجموعی انتظامی ڈھانچے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جیلوں کے اندر کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی یا گفتگو دیگر قیدیوں کے درمیان انتشار اور گروہ بندی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے ادارے کا نظم متاثر ہو سکتا ہے۔
لارجر بینچ کے اس فیصلے کے بعد محکمہ جیل خانہ جات کو ایک مرتبہ پھر واضح قانونی اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ قیدیوں کو جیل کے اندر سیاسی معاملات پر گفتگو یا بیان بازی سے روک سکیں۔ ذرائع کے مطابق، عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق اپنی جگہ مگر ان پر جیل کے نظم و ضبط کی پابندیاں بھی لاگو رہتی ہیں۔ قیدی جیل میں رہتے ہوئے ریاستی قوانین کے تابع ہوتے ہیں اور اس دوران ان کی آزادی عام شہریوں جیسی نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سنگل بینچ نے جیلوں میں سیاسی گفتگو پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قیدیوں کو اظہارِ رائے کی آئینی آزادی حاصل ہے۔ تاہم، حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جسے لارجر بینچ نے اب منظور کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں جیلوں کے نظم و ضبط سے متعلق ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ جیل کا نظام کسی سیاسی یا نظریاتی بحث کے لیے نہیں بلکہ اصلاح اور نظم کے قیام کے لیے بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے بعض کارکنوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیدیوں کے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو محدود کرنا آئینی طور پر ایک حساس معاملہ ہے، جس پر مزید وضاحت درکار ہے۔

