واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے اپنے ایشیا کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنما اقتصادی تعاون اور تجارتی تعلقات سے متعلق اہم معاملات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دورۂ ایشیا کا آغاز آج رات ملائشیا سے کریں گے، جہاں وہ متعدد رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا امریکی وفد بھی ہوگا جو اقتصادی، سلامتی اور تجارتی پالیسیوں پر بات چیت کرے گا۔ ٹرمپ کا یہ دورہ جاپان، جنوبی کوریا اور چین کے سربراہان کے ساتھ ملاقاتوں پر مشتمل ہوگا، جنہیں موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
پریس سیکرٹری کیرولائن لیوٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ اتوار کو ملائشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم سے ملاقات کریں گے، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے میں امریکی سرمایہ کاری، اور دفاعی تعاون کے امور زیر بحث آئیں گے۔ اسی روز وہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ عشائیے میں بھی شریک ہوں گے۔ پیر کے روز صدر ٹرمپ جاپان جائیں گے، جہاں وہ نومنتخب جاپانی وزیراعظم ساناتے تائچی سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات جاپان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
بدھ کے روز صدر ٹرمپ جنوبی کوریا پہنچیں گے، جہاں ان کی ملاقات جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ سے طے ہے۔ دونوں رہنما جزیرہ نما کوریا کی سیکیورٹی صورتحال، شمالی کوریا کے جوہری پروگرام، اور امریکی دفاعی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) فورم میں شرکت کریں گے، جہاں وہ سی ای اوز کے ظہرانے سے خطاب کریں گے اور رہنماؤں کے لیے دیے جانے والے عشائیے میں بھی شریک ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر ٹرمپ کا سب سے اہم پڑاؤ چین ہوگا، جہاں ان کی ملاقات صدر شی جن پنگ سے متوقع ہے۔ یہ ملاقات ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے جاری تجارتی جنگ نے عالمی منڈیوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ اکتوبر میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب چین نے نایاب زمینی معدنیات کی برآمدات پر پابندی عائد کی، جسے واشنگٹن نے اقتصادی دباؤ کی نئی شکل قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے لیے اہم ہو گی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ اس ملاقات سے توقع رکھتی ہے کہ تجارتی تنازعات کے حل، برآمدی پابندیوں میں نرمی، اور خطے میں سیاسی استحکام کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے گا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دورہ امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ ایک جانب واشنگٹن چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے، تو دوسری جانب وہ ایشیائی اتحادیوں کو یہ یقین دہانی بھی دلانا چاہتا ہے کہ امریکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

