اسلام آباد/ریاض/انقرہ:پاکستان، سعودی عرب، ترکی، او آئی سی، عرب لیگ سمیت 17 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسیٹ) کی جانب سے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے غیرقانونی بل کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ عالمی برادری نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مختلف اسلامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ طور پر اسرائیل کے اس یکطرفہ اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی خلاف ورزی ہے بلکہ 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک کھلی کوشش بھی ہے۔ قرارداد 2334 میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری یا انضمام کے تمام اقدامات غیرقانونی ہیں اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کے قبضے، آبادکاری اور انضمام کے عمل کو غیرقانونی قرار دے رکھا ہے، اس لیے اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ اقدامات عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں جن سے خطے میں مزید بدامنی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور دیگر ممالک نے عالمی عدالت انصاف کی اُس رائے کا خیرمقدم کیا جس میں غزہ میں انسانی امداد کی فوری فراہمی کی تاکید کی گئی تھی۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عرب لیگ، ترکی، قطر، مصر، اردن، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا اور دیگر ممالک نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد و خودمختار ریاست کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت رہے گا اور اس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہوگی۔
عرب لیگ نے اپنے علیحدہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کا یہ فیصلہ ایک اشتعال انگیز اور خطرناک اقدام ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔ تنظیم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی سے باز رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اس فیصلے کو "قابض ذہنیت کا تسلسل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ فلسطین پر ظلم و جبر کا زمانہ ہمیشہ نہیں چل سکتا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومتِ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف متحدہ لائحہ عمل اپنائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ہر اُس کوشش کی حمایت کرے گا جو فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے کی جائے گی۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’دنیا کو مغربی کنارے کی اتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں‘‘۔ ان کے اس بیان پر عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ عرب اور مسلم ممالک نے امریکی مؤقف کو غیر ذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موقف عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔ مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کے اس بیان نے امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں غیر جانبدار ثالث کی حیثیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

