اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی پولیس فورس سوگوار ہے، جہاں ایس پی آئی نائن عدیل اکبر شاہراہِ دستور پر اپنی ہی گاڑی میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔ ان کی ہلاکت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ واقعہ خودکشی تھا یا کسی حادثے کا نتیجہ۔ پولیس حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی جی سیف سٹی کی سربراہی میں تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو مختلف پہلوؤں سے شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
پمز اسپتال میں ہونے والے پوسٹمارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گولی عدیل اکبر کے سر کے سامنے والے حصے پر لگی اور کھوپڑی کے پچھلے حصے سے باہر نکل گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دماغ کو پہنچنے والا شدید نقصان ہی موت کا سبب بنا۔ تاہم ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ فائرنگ کا زاویہ اور مقام کسی بیرونی عنصر کی موجودگی کی نشاندہی تو نہیں کرتے۔
واقعے کے فوری بعد پولیس نے ایس پی عدیل اکبر کے ڈرائیور سے تفتیش کا آغاز کیا، جبکہ ان کے ٹیم آپریٹر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی سے واقعے کے وقت کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی گئی ہیں، جنہیں فارنزک ٹیم کے ذریعے تجزیہ کے لیے بھیجا گیا ہے تاکہ گولی چلنے کے درست وقت، مقام اور زاویے کا تعین کیا جا سکے۔
خودکشی سے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد آئی جی اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات کے مکمل ہونے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ سچ سامنے آسکے۔
ادھر پولیس لائنز اسلام آباد میں ایس پی عدیل اکبر کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں اعلیٰ پولیس افسران، اہلکاروں اور دوست احباب کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ بعدازاں ان کی میت آبائی علاقے کامونکی منتقل کر دی گئی، جہاں تدفین ان کے خاندان کی موجودگی میں عمل میں آئی۔
ایس پی عدیل اکبر کے انتقال نے نہ صرف پولیس فورس بلکہ عوامی سطح پر بھی گہرے دکھ اور سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک سالہ شیر خوار بیٹی سمیت لواحقین غم سے نڈھال ہیں، جبکہ حکام اس پُراسرار واقعے کے پس پردہ حقائق تک پہنچنے کے لیے مکمل تحقیقات میں مصروف ہیں۔

