اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (IPOR) نے سفارتی و سلامتی امور پر تازہ عوامی سروے جاری کیا ہے، جس کے مطابق پاکستانی عوام کی بڑی اکثریت پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق 79 فیصد پاکستانیوں نے اس معاہدے کی حمایت کی، جب کہ ان میں سے 66 فیصد نے "انتہائی مضبوط حمایت” کا اظہار کیا۔
سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 73 فیصد عوام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاک فوج اور حکومت پر اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح 80 فیصد پاکستانیوں نے رائے دی کہ پاکستان کی عالمی ساکھ میں بہتری آئی ہے۔ ان میں سے 51 فیصد کا خیال ہے کہ ملک کی عالمی امیج "بہت زیادہ بہتر” ہوئی ہے، جبکہ 29 فیصد نے اسے "کچھ حد تک بہتر” قرار دیا۔
عوامی رائے کے مطابق، 51 فیصد پاکستانیوں نے وزیراعظم کو "محافظ الحرمین الشریفین” جیسے اعزازی لقب سے نوازنے کی حمایت کی، جو سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات اور مذہبی و سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، 29 فیصد عوام نے اس دفاعی معاہدے کو مسلم اُمہ کے اتحاد کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دیا، جبکہ 17 فیصد نے اسے پاکستان کے لیے دفاعی اور اقتصادی فوائد کے لحاظ سے اہم قدم کہا۔
سروے میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی عوامی آراء لی گئیں۔ پاک افغان سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے بارے میں 71 فیصد پاکستانیوں نے افغان طالبان کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ 75 فیصد عوام نے حکومت کے ردعمل کو "مناسب اور متوازن” قرار دیا۔
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے حالیہ امریکی دورے کے حوالے سے بھی عوامی رائے مثبت رہی۔ سروے کے مطابق 43 فیصد پاکستانیوں نے اس دورے کو مثبت قرار دیا، جبکہ صرف 10 فیصد نے اس پر منفی رائے کا اظہار کیا۔
آئی پی او آر کے مطابق، سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عوامی سطح پر حکومت کی خارجہ پالیسی، پاک فوج پر اعتماد، اور مسلم ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کو تقویت دینے کے اقدامات کو وسیع حمایت حاصل ہے۔ یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی عوام خطے میں امن، استحکام اور مسلم اتحاد کی مضبوطی کے خواہاں ہیں۔

