اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن کی بحالی کا افتتاح کر دیا۔
پانچ سال کی طویل معطلی کے بعد آج اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پہلی پرواز روانہ ہوگی، جس کے ساتھ ہی پی آئی اے کا برطانیہ فلائٹ آپریشن باقاعدہ طور پر بحال ہو جائے گا۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی ایئر لائن کے عملے اور سفارتی نمائندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنگ میل پاکستانی سفارتی ٹیم کی انتھک محنت اور برطانوی حکام کے تعاون سے حاصل ہوا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ “سفارتی عملے کی کوششوں سے پی آئی اے پر عائد پابندی کا خاتمہ ممکن ہوا، خاص طور پر برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ (Jane Marriott) کا تعاون اس سلسلے میں کلیدی کردار رکھتا ہے۔”
وزیر دفاع نے بتایا کہ پی آئی اے پر عائد پابندی سے قومی ایئر لائن اور حکومت دونوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم موجودہ حکومت نے ادارے کے معیار اور ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ “جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل پی آئی اے کی تاریخ کا ایک افسوسناک باب تھا، مگر ہم نے اصلاحات کے ذریعے اس بحران پر قابو پا لیا ہے۔”
دوسری جانب برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر محمد فیصل نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “آئندہ مرحلے میں برطانیہ کے دیگر شہروں کے لیے بھی پروازوں کا آغاز متوقع ہے۔”
واضح رہے کہ پی آئی اے کی پروازیں جولائی 2020 میں یورپی سیفٹی ایجنسی کی جانب سے معطلی کے بعد بند ہو گئی تھیں۔ اس پابندی کے خاتمے کے لیے پاکستان سول ایوی ایشن اور سفارتی سطح پر طویل مذاکرات اور اصلاحاتی اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں آج قومی ایئر لائن کا برطانیہ آپریشن دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔

