اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھلی جنگ ناگزیر ہوگی۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور پولیس اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں تاکہ ملک میں امن قائم رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم اس لیے چین سے سوتے ہیں کہ ہمارے محافظ جاگ رہے ہوتے ہیں۔”
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے 40 برس تک افغان عوام کی میزبانی کی، لاکھوں افغانوں کو پناہ دی، ان کے بچوں نے یہاں تعلیم حاصل کی اور روزگار پایا، مگر اس کے باوجود افغانستان کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے بقول، “دوحہ میں جن سے بات ہو رہی ہے وہ سب پاکستان میں پلے بڑھے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ اتنی مہمان نوازی کے باوجود وہ ہمارے خلاف بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین نے پاکستان کے مختلف شہروں میں کاروبار اور روزگار کے مواقع پر قبضہ کیا ہوا ہے، جب کہ پاکستان نے ہمیشہ خیرسگالی کا مظاہرہ کیا۔ وزیر دفاع کے مطابق، “ہمیں ایک ہی ایجنڈا اپنانا ہوگا کہ ہم اخوت کے ساتھ اپنے ہمسایوں کے ساتھ رہیں، مگر اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو ہمیں اپنی سلامتی کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھانا پڑے گا۔”
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جو ایک مثبت علامت ہے، لیکن اگر امن کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام رہیں تو پاکستان کے پاس اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اس وقت ترکی کے شہر استنبول میں جاری ہے، جس میں قطر میں ہونے والے مذاکرات میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر پر اتفاق ہوا تھا اور سرحدی احترام کے اصولوں کو تسلیم کیا گیا تھا، تاہم سرحدی علاقوں میں کشیدگی بدستور موجود ہے، جس کے باعث چمن، طورخم، غلام خان اور دیگر گزرگاہیں کئی روز سے بند ہیں۔

