بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر برائے پارلیمانی امور کیلاش وجے ورگیا نے آسٹریلوی ویمن کرکٹرز کے ساتھ پیش آنے والے نازیبا واقعے کی ذمہ داری الٹا ان ہی کھلاڑیوں پر ڈال دی۔
دو روز قبل بھارتی شہر اندور میں آسٹریلیا کی دو ویمن کرکٹرز کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے ہوٹل سے کیفے ٹیریا جاتے وقت آسٹریلوی ٹیم کی ایک خاتون کھلاڑی کو نازیبا انداز میں چھوا اور فرار ہو گیا۔ بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
یہ واقعہ اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا باعث بنا جب مختلف کرکٹ تنظیموں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں خواتین کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے۔
تاہم اب مدھیہ پردیش کے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیر کیلاش وجے ورگیا نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی ویمن کھلاڑیوں کا بغیر اطلاع باہر جانا ان کی اپنی غلطی تھی، اس واقعے سے انہیں سبق سیکھنا چاہیے اور آئندہ احتیاط کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ریاستی سکیورٹی کی ناکامی بھی ہے لیکن کھلاڑیوں کو بھی اپنے تحفظ کے لیے محتاط رہنا چاہیے۔
وزیر کے اس بیان پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے سخت ردعمل دیا۔ کانگریس رہنما ارون یادیو نے کہا کہ کیلاش وجے ورگیا کا بیان بی جے پی کی گھناؤنی سوچ کو ظاہر کرتا ہے، جو متاثرہ خواتین کو ہی الزام دینے کی روایت کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پورا ملک اس واقعے پر شرمسار ہے، اور وزیر کا یہ کہنا کہ کھلاڑی خود ذمہ دار ہیں، نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ خواتین کی تضحیک کے مترادف ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی ہراسانی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر عوام نے بھی وزیر کے بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
کئی کرکٹ شائقین نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی حکومت غیر ملکی کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

