گیونگجو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا میں اے پی ای سی سی ای او سمٹ کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو "زبردست فائٹر” قرار دیا اور وزیراعظم شہباز شریف کی بھی تعریف کی۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک موقع پر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، دونوں ایٹمی طاقتیں تھیں اور اس دوران سات طیارے مار گرائے گئے۔ ان کے بقول، "میں نے اُس وقت مداخلت کی اور دونوں ممالک کے سربراہان کو فون کیا۔” انہوں نے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ "تم پاکستان سے جنگ کر رہے ہو، ہم تمہارے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے” اور اسی طرح پاکستان کو بھی یہی پیغام دیا۔
امریکی صدر کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کو خبردار کیا کہ اگر جنگ نہ رکی تو 250 فیصد ٹیکس لگا دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ صرف 48 گھنٹوں میں پاکستان اور بھارت دونوں نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔ ان کے مطابق، "یہ ایک حیرت انگیز بات تھی کیونکہ ہم نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچا لیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں "بہت اچھے لوگ” ہیں، اور پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے سنجیدہ کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ بائیڈن ایسا نہیں کر سکتے تھے جو انہوں نے کیا، کیونکہ وہ "فیصلہ کن قیادت” پر یقین رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان نہ صرف پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں اہم ہے بلکہ اس سے خطے میں پاکستان کی عسکری قیادت کے عالمی سطح پر اثرورسوخ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

