واشنگٹن پینٹاگون نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید امریکی ساختہ ٹوماہاک کروز میزائل فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس فیصلے کی حتمی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیں گے۔
امریکی اور یورپی حکام کے مطابق پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینے سے امریکی دفاعی ذخائر یا فوجی صلاحیتوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران واضح کیا تھا کہ وہ فی الحال یہ میزائل یوکرین کو فراہم نہیں کرنا چاہتے۔
ذرائع کے مطابق زیلنسکی سے ملاقات سے صرف ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے فون پر گفتگو کی تھی۔ اس گفتگو میں پیوٹن نے سخت خبردار کیا تھا کہ ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی روس کے بڑے شہروں، خصوصاً ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ، تک خطرہ پیدا کر سکتی ہے اور اس اقدام سے امریکا اور روس کے تعلقات شدید متاثر ہوں گے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن نے یوکرین کو یہ میزائل فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا تو یہ جنگ کے توازن میں نمایاں تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ ٹوماہاک میزائل طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے، درستگی اور تباہ کن صلاحیت کے باعث امریکی اسلحے میں ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹوماہاک کروز میزائل پہلی بار 1983 میں امریکی فوجی ذخائر میں شامل کیا گیا تھا اور اب تک خلیجی جنگ، عراق، شام اور لیبیا سمیت کئی بڑے فوجی آپریشنز میں استعمال ہو چکا ہے۔ یہ میزائل سمندری اور زمینی دونوں پلیٹ فارمز سے داغا جا سکتا ہے اور اپنے جدید نیوی گیشن سسٹم کی بدولت طویل فاصلے پر انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پینٹاگون کی یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینے کی منظوری، حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے
واشنگٹن پینٹاگون نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید امریکی ساختہ ٹوماہاک کروز میزائل فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس فیصلے کی حتمی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیں گے۔
امریکی اور یورپی حکام کے مطابق پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینے سے امریکی دفاعی ذخائر یا فوجی صلاحیتوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران واضح کیا تھا کہ وہ فی الحال یہ میزائل یوکرین کو فراہم نہیں کرنا چاہتے۔
ذرائع کے مطابق زیلنسکی سے ملاقات سے صرف ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے فون پر گفتگو کی تھی۔ اس گفتگو میں پیوٹن نے سخت خبردار کیا تھا کہ ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی روس کے بڑے شہروں، خصوصاً ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ، تک خطرہ پیدا کر سکتی ہے اور اس اقدام سے امریکا اور روس کے تعلقات شدید متاثر ہوں گے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن نے یوکرین کو یہ میزائل فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا تو یہ جنگ کے توازن میں نمایاں تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ ٹوماہاک میزائل طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے، درستگی اور تباہ کن صلاحیت کے باعث امریکی اسلحے میں ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹوماہاک کروز میزائل پہلی بار 1983 میں امریکی فوجی ذخائر میں شامل کیا گیا تھا اور اب تک خلیجی جنگ، عراق، شام اور لیبیا سمیت کئی بڑے فوجی آپریشنز میں استعمال ہو چکا ہے۔ یہ میزائل سمندری اور زمینی دونوں پلیٹ فارمز سے داغا جا سکتا ہے اور اپنے جدید نیوی گیشن سسٹم کی بدولت طویل فاصلے پر انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

