غزہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے انروا نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی سخت پابندیوں کے باعث غزہ میں لاکھوں فلسطینی خوراک اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق حالات انتہائی سنگین ہو چکے ہیں اور فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
انروا نے کہا ہے کہ صاف اور محفوظ پانی تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، تاہم اسرائیلی محاصرے اور امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیوں نے غزہ کے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ادارے کے مطابق وہ اس وقت تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار بے گھر فلسطینیوں کو پانی فراہم کر رہا ہے، لیکن یہ تعداد غزہ بھر میں متاثرہ آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
ادارے نے مزید بتایا کہ ہزاروں خاندان اب بھی بھوک اور پیاس سے دوچار ہیں، کیونکہ اسرائیل نے نہ صرف خوراک اور ایندھن کی ترسیل روک رکھی ہے بلکہ امدادی قافلوں کو بھی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسپتالوں میں ادویات ختم ہونے کے قریب ہیں اور پناہ گزین کیمپوں میں صفائی کی صورتحال بھی خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں پر فضائی و زمینی حملے جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے متعدد بار سرحدی گزرگاہوں کو بند کر دیا ہے، جس سے انسانی امداد کی فراہمی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
انروا کے مطابق اگر امدادی پابندیاں فوری طور پر ختم نہ کی گئیں تو غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ادارے نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ امدادی سامان کی ترسیل بلا تعطل ممکن ہو سکے اور لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی زندگی بچائی جا سکے۔

