بھارت سے آنے والی آلودہ مشرقی ہواؤں نے پنجاب کے وسطی شہروں میں فضائی آلودگی کی شدت خطرناک حد تک بڑھا دی ہے۔ لاہور، قصور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ سمیت متعدد شہروں میں ائیر کوالٹی انڈیکس (AQI) حدِ خطرہ سے تجاوز کر چکا ہے۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق بھارت کی سرحدی ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث بننے والا دھواں مشرقی ہواؤں کے ذریعے لاہور سمیت پنجاب کے وسطی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس سے فضا میں مضر صحت ذرات (Particulate Matter) کی مقدار کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس دوران لاہور کا اوسط اے کیو آئی 320 سے 360 کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ کے مطابق لاہور اس وقت پاکستان کا تیسرا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 450 تک ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ دوپہر ایک بجے سے شام پانچ بجے تک آلودگی کی سطح میں معمولی بہتری کی توقع ہے، لیکن فضا اب بھی انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
بین الاقوامی ماحولیاتی مانیٹرنگ ویب سائٹس کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح تشویشناک سطح پر پہنچ چکی ہے — سیکرٹریٹ میں 1018، ساندہ روڈ پر 997، اور راوی روڈ پر 820 پارٹیکولیٹ میٹر درج کیے گئے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق شہر کے متعدد علاقے "انتہائی مضر صحت” زون میں شامل ہیں۔
اسی طرح برکی روڈ، شاہدرہ، ملتان روڈ، جی ٹی روڈ اور ایجرٹن روڈ پر ایئر کوالٹی انڈیکس 500 تک پہنچ گیا۔ دیگر شہروں میں بھی صورتحال سنگین ہے — ڈیرہ غازی خان اور قصور میں 500، رائے ونڈ میں 601، گوجرانوالہ میں 442، لاہور میں 398، فیصل آباد میں 337 اور شیخوپورہ میں 358 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اس سطح کی آلودگی سانس، آنکھوں اور جلدی بیماریوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو خاص طور پر احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بغیر ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا لازمی استعمال کریں، اور گھروں میں ہوا صاف رکھنے کے لیے ایئر پیوریفائر یا گھریلو حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔
ماہرین نے مزید کہا ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے پر قابو پانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مؤثر علاقائی تعاون ناگزیر ہے، کیونکہ فضائی آلودگی سرحدوں کی قید سے آزاد ہے اور اس کا اثر پورے خطے پر پڑ رہا ہے۔

