لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت صوبے میں امن و امان سے متعلق غیرمعمولی اجلاس ہوا جس میں لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے سخت نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی و ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حساس محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
نمائندہ نیو نیوز وقاص غوری کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں کسی کاروبار، تنظیم، جماعت یا فرد کو کسی بھی قسم کے عوامی یا نجی اجتماع، جلسے یا کاروباری مقصد کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ صوبائی حکومت نے واضح کیا کہ اس قانون کے اطلاق کو سی سی ٹی وی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا تاکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔
تاہم، حکومت نے وضاحت کی کہ پانچ وقت کی اذان اور جمعہ کے خطبے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، یہ رعایت صرف مذہبی فریضے کی ادائیگی تک محدود رہے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام، فرقہ واریت کے خاتمے اور فتنہ و فساد کی روک تھام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ قانون پر عمل درآمد میں کسی قسم کی نرمی یا سیاسی مصلحت کو برداشت نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیزی اور مذہب کے نام پر انتشار پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ صوبے کے تمام اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کریں اور ضابطے کی کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی عمل میں لائیں۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس میں صوبے میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ، اجتماعات کی سیکیورٹی اور نفرت انگیز مواد کی نگرانی سے متعلق بھی متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کو امن و ترقی کا گہوارہ بنانے کے لیے قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

