کراچی: معروف تھیٹر اداکارہ روبی انعم نے شوبز انڈسٹری کی خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ طلاق کو فروغ دینے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کریں اور کھل کر یہ کہیں کہ ’’طلاق ایک برا عمل ہے‘‘۔
روبی انعم حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے شادی اور طلاق کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کچھ خواتین اداکارائیں طلاق کو ایک فخر کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہیں جو نوجوان نسل کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ حیرت ہوتی ہے جب کوئی مشہور خاتون یہ فخر سے کہتی ہے کہ اُس نے 35 سال بعد طلاق لے لی کیونکہ وہ مزید برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ ان کے مطابق، یہ سوچ عام خواتین میں غلط تاثر پیدا کرتی ہے کہ برداشت یا صبر کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔
اداکارہ نے وضاحت کی کہ جب وہ ’’35 سال‘‘ کی بات کرتی ہیں تو یہ کسی خاص شخصیت پر تنقید نہیں بلکہ ایک عمومی مشاہدہ ہے کہ شوبز میں بعض خواتین اپنی ذاتی زندگی کے فیصلوں کو اس انداز میں بیان کرتی ہیں جیسے وہ کوئی کامیابی ہو۔
روبی انعم نے کہا کہ طلاق ایک ناگزیر صورتِ حال میں ہو سکتی ہے، لیکن اسے کسی طور پر قابلِ فخر یا قابلِ تقلید عمل کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، اس طرح کے بیانات معاشرے میں خاندانی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور نوجوان لڑکیوں کو غلط پیغام دیتے ہیں کہ شادی ناکام ہونے پر طلاق ہی واحد حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوبز سے وابستہ خواتین کو چاہیے کہ وہ معاشرتی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ان کے بیانات عوامی رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر وہ بار بار یہ کہیں گی کہ شادی کے بعد زندگی میں صرف تشدد یا دکھ ملتا ہے تو نئی نسل شادی سے بدظن ہو جائے گی۔
روبی انعم کا کہنا تھا کہ طلاق کے بجائے شادی جیسے خوبصورت رشتے کو مضبوط بنانے کی ترغیب دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فنکار معاشرے کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں، اس لیے ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ خاندانی اقدار، صبر، برداشت اور باہمی احترام کا پیغام دیں۔
اداکارہ نے آخر میں شوبز انڈسٹری کی خواتین سے اپیل کی کہ وہ مثبت رویوں کو فروغ دیں، اپنے مداحوں کو رشتوں کی قدر سکھائیں اور طلاق جیسے عمل کو ’’اختیار‘‘ کے بجائے ’’افسوسناک ضرورت‘‘ کے طور پر پیش کریں تاکہ معاشرے میں خاندانی استحکام برقرار رہے۔

