لاہور / کراچی: پنجاب اور سندھ بار کونسل کے انتخابات میں پولنگ جاری ہے، دونوں صوبوں کے وکلا اپنی نئی نمائندہ قیادت کے انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔
پنجاب بار کونسل کی 75 نشستوں پر صوبہ بھر سے 331 امیدوار مدمقابل ہیں، جبکہ ایک لاکھ 32 ہزار 300 وکلا ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز بطور ریٹرننگ افسر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں ووٹنگ کے لیے 52 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، جہاں شناختی کارڈ اور پنجاب بار کارڈ کے بغیر داخلہ بند رکھا گیا ہے۔ لاہور ڈویژن میں 42 ہزار 415 ووٹرز ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں، جہاں 93 امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ ضلع اور تحصیل ہیڈکوارٹرز میں بھی پولنگ کا عمل پُرامن طور پر جاری ہے۔
انتخابات کے غیرسرکاری نتائج پولنگ مکمل ہونے کے بعد جاری کیے جائیں گے، جبکہ حتمی اور سرکاری نتائج 17 نومبر کو ایڈووکیٹ جنرل آفس میں باقاعدہ طور پر اعلان کیے جائیں گے۔
دوسری جانب سندھ بار کونسل کے انتخابات کے لیے بھی کراچی سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں پولنگ جاری ہے۔ 33 نشستوں کے لیے 27 ہزار 300 وکلا ووٹ ڈال رہے ہیں، جن میں 5 ہزار سے زائد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
کراچی میں 16 نشستوں پر 15 ہزار وکلا ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں، سٹی کورٹ میں 40 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ ضلع ساؤتھ کی 6 نشستوں پر 41 امیدواروں میں مقابلہ ہے، ضلع ایسٹ کی 4 نشستوں کے لیے 32، ضلع سینٹرل کی 4 نشستوں پر 17، ضلع ویسٹ کی ایک اور ملیر کی ایک نشست کے لیے بالترتیب 7 اور 5 امیدوار مدمقابل ہیں۔
صوبائی وزیر قانون ضیاء لنجار شہید بے نظیر آباد سے امیدوار ہیں۔ سندھ بھر میں پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگا۔

