واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائیجیریا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نائیجیرین حکومت مسیحیوں کے خلاف قتل و غارت کو روکنے میں ناکام رہی تو امریکا فوری طور پر تمام امداد بند کر دے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹرتھ سوشل” پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ نائیجیریا میں مسیحیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی خبریں تشویشناک ہیں، اور اگر نائیجیرین حکومت نے فوری اقدام نہ کیا تو امریکا براہِ راست مداخلت کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس اس ملک میں دہشت گردوں کو ختم کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکی محکمہ دفاع کو ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ "ہم نائیجیریا میں کارروائی کے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔” ذرائع کے مطابق پینٹاگون نے ابتدائی حکمتِ عملی پر کام شروع کر دیا ہے، تاہم کسی حتمی آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب نائیجیریا کی حکومت نے امریکی صدر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی بنیادوں پر کوئی منظم قتل عام نہیں ہو رہا۔ نائیجیریا کے صدارتی ترجمان نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کے واقعات کا تعلق زمینی تنازعات اور مقامی دہشت گرد گروہوں سے ہے، جن کے خلاف فوج اور سیکیورٹی ادارے کارروائیاں کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین نے ٹرمپ کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہِ راست فوجی مداخلت کے سنگین سفارتی اور انسانی نتائج ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نائیجیریا کا مسئلہ داخلی سطح پر پیچیدہ ہے اور اسے مذاکرات، ترقیاتی اصلاحات اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

