جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 42 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی، جن میں اکثریت شہری علاقوں کے رہائشیوں کی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق موسمی تبدیلی اور غیر معمولی بارشوں کے باعث مچھر کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے، جس سے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روز 23 نئے مریض سامنے آئے، جبکہ لاروا چیکنگ ٹیموں نے مختلف علاقوں میں 185 مثبت ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی۔ ان ہاٹ اسپاٹس میں گھروں کے صحن، واٹر ٹینکس، نالیاں، زیر تعمیر عمارتیں اور گملے شامل ہیں۔ اس وقت اسلام آباد کے مختلف اسپتالوں میں 67 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے چند کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے مزید علاقوں میں اسپرے مہم تیز کرنے اور گھروں کی چیکنگ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر راولپنڈی میں بھی ڈینگی کیسز میں اضافہ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 19 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد رواں سال متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 1361 تک پہنچ گئی۔ محکمہ صحت کے مطابق راولپنڈی کے اسپتالوں میں اس وقت 28 مریض زیر علاج ہیں۔ بیشتر کیسز شمس آباد، صادق آباد، ڈھوک کالا خان اور چکلالہ کے علاقوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت پنجاب کے حکام نے بتایا ہے کہ گھروں میں پانی جمع ہونا، چھتوں پر رکھے پرانے ٹائروں اور واٹر کولروں کی صفائی نہ ہونا ڈینگی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں اور اطراف کے علاقوں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں، پانی جمع نہ ہونے دیں، اور اگر بخار، جسم درد یا سر درد کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔
مزید یہ کہ انتظامیہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام نجی و سرکاری ادارے اپنے احاطے میں ڈینگی لاروا چیکنگ ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔ اسپتالوں میں ڈینگی مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈز قائم کیے گئے ہیں جبکہ ادویات اور ٹیسٹنگ کی سہولیات میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔

