وزیراعظم شہباز شریف نے صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں پر تشدد، دھمکی یا انتقامی کارروائیاں دراصل آزادیٔ اظہار پر حملہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد، باخبر اور ذمہ دار صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے، اور صحافی وہ پل ہیں جو عوام کو حقائق تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت آزادیٔ صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ صحافت ریاست کا ایک اہم ستون اور جمہوریت کا بنیادی جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری اور انصاف پسند معاشرے کی تشکیل کے لیے صحافیوں کے خلاف جرائم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ایاز صادق نے غزہ، فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ "رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017” پارلیمان کے شفافیت کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صحافیوں کو دھمکانا یا انصاف سے محروم رکھنا دراصل جمہوریت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تاریخ کے بدترین میڈیا ٹرائلز کے باوجود ہمیشہ آزادیٔ صحافت کا علم بلند رکھا۔ بلاول بھٹو نے مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں بھارتی و اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں صحافیوں پر مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
سیاسی رہنماؤں کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت کو جمہوریت کے تسلسل کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور آزاد میڈیا کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ صحافت کو دباؤ یا تشدد کے بغیر آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔

