سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ 2025 کے نتائج کا اعلان، کراچی کے طلبہ بازی لے گئے
کراچی: سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے ایم ڈی کیٹ کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سی ای او ایس ٹی ایس کے مطابق اس سال کے ایم ڈی کیٹ کے عارضی نتائج ہی حتمی نتائج قرار دیے گئے ہیں کیونکہ عارضی نتائج میں ایک بھی غلطی سامنے نہیں آئی۔
تفصیلات کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2025 کا امتحان صوبہ سندھ بھر میں منعقد ہوا جس میں مجموعی طور پر 32 ہزار 424 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ امتحان میں کامیابی کے لیے ڈینٹسٹری کے امیدواروں کو کم از کم 50 فیصد جبکہ ایم بی بی ایس کے امیدواروں کو 55 فیصد نمبرز حاصل کرنا لازمی تھے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں 14 ہزار 300 امیدواروں نے 55 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے جبکہ 17 ہزار 123 امیدوار 50 فیصد نمبر لینے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح بڑی تعداد میں امیدواروں نے کامیابی حاصل کر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط بنا لی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سال کے ایم ڈی کیٹ میں کراچی کے طلبہ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے صوبے بھر میں سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔ آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کے تحت منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ 2025 میں کراچی کے طلبہ نے نہ صرف پہلی تینوں پوزیشنیں حاصل کیں بلکہ مجموعی طور پر ٹاپ ٹین میں بھی نمایاں برتری برقرار رکھی۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹاپ 10 میں شامل 124 نمایاں امیدواروں میں سے 41 امیدواروں کا تعلق کراچی سے ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کراچی کے تعلیمی ادارے اس امتحان کی تیاری کے حوالے سے دیگر شہروں پر سبقت رکھتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کراچی کے طلبہ کی یہ کامیابی محنت، بہتر تدریسی معیار اور جدید تعلیمی سہولیات کا نتیجہ ہے۔
سی ای او ایس ٹی ایس نے بتایا کہ تمام پرچوں کی جانچ پڑتال جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی گئی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ ان کے مطابق نتائج کی دوبارہ جانچ کے بعد بھی کوئی تکنیکی یا انسانی غلطی سامنے نہیں آئی، اسی لیے عارضی نتائج کو ہی حتمی قرار دیا گیا ہے۔
ایم ڈی کیٹ کے نتائج کے بعد اب سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے، اور کامیاب امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی دستاویزات مقررہ تاریخ تک جمع کرائیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق اس سال میرٹ کی لائن قدرے بلند رہنے کا امکان ہے کیونکہ کامیاب امیدواروں کی شرح پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ 2025 کے نتائج ایک مثبت اشارہ ہیں کہ صوبے میں تعلیمی معیار بہتر ہو رہا ہے، تاہم دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے اضافی سہولیات اور تیاری کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ بھی کراچی جیسے بڑے شہروں کے طلبہ کے ہم پلہ کارکردگی دکھا سکیں۔

