قاہرہ: مصر کے عظیم الشان گرینڈ ایجیپشن میوزیم نے بالآخر دنیا کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں، جو فراعنہ مصر کی تاریخ اور قدیم تہذیب کے شاہکاروں کو ایک ہی چھت تلے سموئے ہوئے ہے۔
افتتاحی تقریب قاہرہ میں اہرام مصر کے قریب منعقد ہوئی، جہاں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے میوزیم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ رنگا رنگ تقریب میں مصری اور بین الاقوامی فنکاروں نے دلکش پرفارمنسز پیش کیں جنہوں نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔
120 ایکڑ پر پھیلا یہ میوزیم نہ صرف اپنے طرزِ تعمیر بلکہ نوادرات کے ذخیرے کے لحاظ سے بھی دنیا بھر میں منفرد ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ میوزیم فرانس کے مشہور لوور میوزیم سے دوگنا بڑا ہے، جب کہ اس کے قیام پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئی۔
میوزیم میں طوطن خامن کے مقبرے سے ملنے والے نایاب زیورات، سونے کے نقوش، تخت، لباس اور دیگر اشیاء سمیت قدیم مصری تاریخ کے مختلف ادوار کی ایک لاکھ سے زائد نوادرات نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔
ان اشیاء میں رعمسیس دوم کے عظیم الشان مجسمے، پتھروں پر کندہ قدیم تحریریں، اہرام مصر کی تعمیر کے آلات، اور ہزاروں سال پرانے تابوت بھی شامل ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ میوزیم نہ صرف سیاحت کے فروغ بلکہ مصر کی تاریخی شناخت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ افتتاح کے بعد سے مقامی اور غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے میوزیم کا رخ کیا ہے۔

