کراچی: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ دعا ہے کراچی دوبارہ اپنی پرانی عظمت اور روشنیوں کو حاصل کر سکے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پہلی سے چوتھی جماعت تک عائشہ باوانی اسکول میں تعلیم حاصل کی، اور باوانی فیملی نے تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ قوت ہے جو معاشروں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج کے طالبعلم مستقبل کے رہنما ہیں، ان میں سے کوئی کل ملک کا وزیر بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ہمارے تعلیمی اداروں کو محض روزگار فراہم کرنے کے بجائے مستقبل کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ہوں گی۔
احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی دنیا میں ترقی کا میدان لیبارٹریوں کے اندر طے ہو رہا ہے۔ جو قومیں تحقیق، ایجادات اور ٹیکنالوجی میں آگے ہیں، وہی دنیا کی قیادت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئی سائنسی و تکنیکی ایجادات کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر مؤثر مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے او لیول اور اے لیول کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہماری تعلیمی جڑیں کمزور ہو گئی ہیں، ہمیں اپنی قومی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ میں خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیتیں فروغ پا سکیں۔
احسن اقبال نے آخر میں کہا کہ ایک زمانہ تھا جب کراچی ترقی یافتہ، روشن اور عالمی سطح پر پہچانا جانے والا شہر تھا۔ اب دعا ہے کہ یہ شہر دوبارہ اپنی روشنیوں، امن اور ترقی کی اُس فضا کو حاصل کر سکے جس کے لیے یہ مشہور تھا۔

