مظفرآباد: وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے، جس سے خطے کی سیاسی صورتحال مزید غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کی قیادت نے تاحال نئے قائد ایوان کے نام پر اتفاق نہیں کیا، جبکہ امکان ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی کے بعد ہی تحریک عدم اعتماد باضابطہ طور پر جمع کرائی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک میں تاخیر کی بڑی وجہ مسلم لیگ (ن) کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ ہے، کیونکہ موجودہ اسمبلی کی مدت جولائی 2026 میں مکمل ہونی ہے، جبکہ ن لیگ مارچ 2026 میں انتخابات کرانے پر بضد ہے۔ اس اختلاف نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان سیاسی ڈیڈلاک پیدا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگر ن لیگ کا مطالبہ مان لیا جاتا ہے تو انتخابات سے دو ماہ قبل یعنی جنوری 2026 میں نئی حکومت اختیارات سے محروم ہو جائے گی، جس سے پیپلز پارٹی اپنے سیاسی اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔ اسی لیے پیپلز پارٹی اسمبلی کی مدت پوری کرنے پر اصرار کر رہی ہے تاکہ وہ آئندہ انتخابات سے قبل ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کر سکے۔
مزید یہ کہ آزاد کشمیر حکومت کا 80 فیصد ترقیاتی بجٹ تاحال خرچ نہیں ہوا، جسے موجودہ حکومت کے حق میں ایک مضبوط کارڈ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ بجٹ کے زیادہ تر منصوبے اس کی نگرانی میں مکمل ہوں تاکہ انتخابی مہم کے دوران عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اصولی طور پر متفق ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر تحریک عدم اعتماد میں مزید تاخیر ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ اتحادی جماعتوں کے باہمی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے آزاد کشمیر کی سیاست کو ایک بار پھر غیر متوقع موڑ پر پہنچا دیا ہے، جہاں ہر فیصلہ مستقبل کے سیاسی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

