پشاور: محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے یونیورسٹی روڈ پر واقع سی ٹی ڈی تھانے میں ہونے والے دھماکے کی ابتدائی رپورٹ مکمل کرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دھماکا صبح 7 بج کر 58 منٹ پر تھانے کے مال خانے میں ہوا، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ہیڈ کانسٹیبل بلال شہید ہوگئے اور تین اہلکار زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں کانسٹیبل زیت اللّٰہ، مدثر اور محمد ایاز شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ ذخیرہ شدہ بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا۔
محکمہ انسداد دہشت گردی کی رپورٹ کے مطابق مال خانے میں 2025 کے دوران مختلف کارروائیوں میں ملزمان سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور بارودی مواد رکھا گیا تھا۔ وہاں 2 کلوگرام بارود، 23 دستی بم، 7 گرینیڈ لیور، 60 رائفلیں، 10 کلو ہائی ایکسپلوسیو اور 2 خودکش جیکٹس موجود تھیں۔
مزید یہ کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مال خانے میں 42 الیکٹرک اور 10 نان الیکٹرک ڈیٹونیٹرز، ایک آر پی جی شیل، ایک آئی ای ڈی ڈیوائس، پرائما کورڈ، سیفٹی فیوز، بیٹریاں اور الیکٹرک تاریں بھی رکھی ہوئی تھیں۔
تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر واقعے کو حادثاتی دھماکہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ فرانزک تجزیے اور شواہد کی مکمل جانچ کے بعد سامنے آئے گی۔ واقعے کے بعد سی ٹی ڈی نے تمام تھانوں کے مال خانوں میں موجود اسلحہ و بارودی مواد کی از سرِ نو جانچ کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

