غزہ:اسرائیلی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ کارروائیوں میں قابض فورسز نے مزید 3 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ اور بمباری کی، جس کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 236 فلسطینی شہید جبکہ 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق مغربی علاقے میں ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے مزید دو فلسطینیوں کی لاشیں نکالی گئیں، جب کہ خان یونس اور وسطی غزہ میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
غزہ کے محکمہ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج کے حملوں میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 68 ہزار 858 ہو چکی ہے، جب کہ ایک لاکھ 70 ہزار 664 افراد زخمی ہیں۔ طبی سہولیات کی شدید قلت، ادویات کی کمی اور محاصرے کے باعث زخمیوں کو بروقت امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔
ادھر مغربی کنارے میں بھی قابض فوج کی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ مختلف شہروں میں گھر گھر تلاشی کے دوران بچوں سمیت 21 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہی ہے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک کار پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار افراد شہید ہو گئے۔ لبنانی حکام کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب گاڑی عام شہریوں کے علاقے سے گزر رہی تھی۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان میں جنگ بندی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیاں خطے میں امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

