کراچی: پاکستان میں پانی، زراعت اور توانائی کے تحفظ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے ایک جامع ایجنڈا تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مقابلے میں ایک پائیدار حکمت عملی وضع کرنا ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق "گلیشیئرز ٹو فارمز پروگرام” کے تحت پاکستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے معاشی، ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ پروگرام کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کس طرح شمالی علاقوں میں تیزی سے پگھلتے برفانی ذخائر آئندہ برسوں میں پانی، زراعت اور توانائی کے وسائل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے بچاؤ کے لیے محفوظ اور دیرپا منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ پاکستان میں آبی ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے، زرعی پیداوار میں کمی کے خطرے کو روکا جا سکے اور توانائی کے نظام کو موسمی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اے ڈی بی کے مطابق، عالمی ماحولیاتی ماہرین سے اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر سفارشات طلب کر لی گئی ہیں۔ ان سفارشات پر تفصیلی غور و خوض "انٹرنیشنل کنونشن آف دی ایسٹ ایشین اکنامک ایسوسی ایشن” کے اجلاس میں کیا جائے گا جو 8 اور 9 نومبر کو فلپائن میں منعقد ہو گا۔
ذرائع کے مطابق "گلیشیئرز ٹو فارمز” پروگرام پاکستان کے آبی ذخائر کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی نظام کے فروغ اور موسمیاتی خطرات کے تدارک کے لیے ایک اہم پالیسی فریم ورک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ مستقبل میں پاکستان کی زرعی معیشت کو مستحکم بنانے اور پانی کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔

