وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو ایسی خوفناک چیز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو، حالانکہ اس پر ابھی صرف مشاورت کا آغاز ہوا ہے، اور جب تک تمام فریقین میں اتفاق رائے نہیں ہوگا، کوئی آئینی ترمیم نہیں کی جائے گی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جن نکات کا ذکر بلاول بھٹو نے کیا ہے، وہ تمام موضوعات پچھلے دو سے چار ماہ سے مختلف فورمز پر زیرِ بحث ہیں۔ ان کے مطابق اتحادی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی لائحہ عمل سامنے لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 27ویں آئینی ترمیم کے لیے تیار ہے جس کے تحت فیلڈ مارشل کا عہدہ آئینی بنانے کے لیے آرٹیکل 243 میں ترمیم پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم یہ تمام اقدامات مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ساتھ ہوں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ ایسی دستاویز عوام کے سامنے لائیں جس پر مکمل اتفاقِ رائے ہو۔ ان کے بقول، کسی بھی آئینی ترمیم میں جمہوریت کے لیے خطرے کی کوئی بات نہیں، بلکہ یہ عمل جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ میثاقِ جمہوریت کے تحت مسلم لیگ (ن) کا پہلے دن سے مؤقف رہا ہے کہ ملک میں ایک "آئینی عدالت” قائم ہونی چاہیے تاکہ آئینی معاملات میں تسلسل اور شفافیت برقرار رہے۔ ان کے مطابق، پیپلز پارٹی بھی اس پر متفق ہے جبکہ پی ٹی آئی نے ماضی میں "آئینی عدالت” کے بجائے "آئینی بینچ” کی تجویز دی تھی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ججز کے تبادلوں کا اختیار حکومت کے پاس نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ مکمل طور پر جوڈیشل کمیشن کے دائرہ اختیار میں آنا چاہیے، یہی آئینی اور جمہوری طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بھی بات شروع ہوگی تو یہ واضح ہو جائے گا کہ کون سے صوبے یا جماعتیں راضی ہیں اور کون ناراض۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں اس وقت ایک دوسرے سے بڑھ کر جارحانہ مؤقف اختیار کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے تاکہ سیاسی تعریف حاصل کی جا سکے۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دو مرتبہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے براہِ راست بات کی ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ صوبوں کے درمیان اعتماد کا ماحول قائم رہے تاکہ آئینی و سیاسی معاملات بات چیت سے حل کیے جا سکیں۔

