ترکی کے شہر استنبول میں معروف خطاط علی زمان نے چھ سال کی طویل محنت، لگن اور روحانی وابستگی کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے لکھا ہوا قرآنِ پاک مکمل کرلیا ہے، جس کی ہر صفحے کی لمبائی تقریباً چار میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔
یہ شاہکار نسخہ نہ صرف سائز کے لحاظ سے منفرد ہے بلکہ اس کی خوبصورت خطاطی، روحانی حسن اور فنکارانہ نزاکت نے پوری اسلامی دنیا کو متاثر کیا ہے۔ علی زمان نے جدید ٹیکنالوجی کو چھوڑ کر مکمل طور پر روایتی طریقہ اپنایا۔ انہوں نے قدرتی سیاہی، ہاتھ سے تیار کردہ قلم اور قدیم نسخ خط کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق یہ کام فن نہیں بلکہ عبادت تھا۔
علی زمان روزانہ کئی گھنٹے اس پر کام کرتے اور ہر آیت لکھنے سے پہلے وضو اور دعا پڑھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ “میں نے جب بھی قلم کو سیاہی میں ڈبویا، دل میں صرف ایک احساس تھا کہ میں اللہ کے کلام کو چھو رہا ہوں۔” اس منصوبے پر کام کے دوران انہوں نے چھ سال میں ایک دن بھی وقفہ نہیں لیا، کیونکہ ان کے لیے یہ عمل عبادت سے کم نہ تھا۔
یہ قرآنِ پاک مجموعی طور پر 604 صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر صفحہ مکمل ہونے کے بعد کئی دنوں تک خشک ہونے دیا جاتا اور پھر نہایت احتیاط سے محفوظ کیا جاتا۔ اس کی تزئین و آرائش کے لیے سونے کے رنگ کی بارڈر لائنز بنائی گئیں اور آیات کے درمیان خوبصورت نمونوں سے حسن پیدا کیا گیا۔ سیاہی خاص طور پر ترکی کی پرانی روایات کے مطابق عرقِ گلاب، گوند اور قدرتی رنگوں سے تیار کی گئی۔
ترکی کی وزارتِ ثقافت اور مذہبی امور نے اس شاہکار کو اسلامی فنِ کتابت کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مقدس منصوبہ قرار دیا ہے۔ جلد ہی اسے عوامی نمائش کے لیے استنبول میں پیش کیا جائے گا تاکہ لوگ اس عظیم تخلیق کو دیکھ سکیں۔ وزارت کے مطابق یہ منصوبہ اسلامی ورثے کی بقا اور فنِ خطاطی کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
یہ نسخہ ماضی کے تمام بڑے قرآنوں سے بڑا ہے۔ اس سے پہلے افغانستان میں موجود سب سے بڑا قرآن 2.28 میٹر لمبا اور 1.55 میٹر چوڑا تھا، لیکن ترکی میں تیار کردہ یہ نسخہ تقریباً دوگنا سائز رکھتا ہے، جس نے اسے دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن بنا دیا ہے۔
علی زمان، جو ماضی میں سنار کے پیشے سے وابستہ تھے، نے بتایا کہ انہیں زیورات بنانے میں کبھی سکون نہیں ملا۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی زندگی اللہ کے کلام کی خدمت کے لیے وقف کریں گے۔ اسی عزم کے ساتھ انہوں نے خطاطی سیکھی اور پھر قرآنِ پاک کی کتابت شروع کی۔
ان کا کہنا ہے کہ “میں نے یہ قرآن دولت کے لیے نہیں بلکہ روحانی تسکین کے لیے لکھا۔ میں چاہتا تھا کہ جب کوئی اس قرآن کو دیکھے تو اس کے دل میں ایمان کی روشنی جاگ اٹھے۔”
یہ شاہکار نہ صرف ترکی بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایمان، صبر، فن اور محبتِ الٰہی کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ استنبول کی تاریخی سرزمین پر تخلیق کیا گیا یہ نسخہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب نیت خالص ہو تو فن عبادت بن جاتا ہے۔
علی زمان کا شمار ترکی کے ممتاز اور عالمی سطح پر پہچانے جانے والے خطاطوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق استنبول کے ایک متوسط گھرانے سے ہے، جہاں وہ ابتدائی طور پر زیورات سازی کے پیشے سے وابستہ تھے، مگر قرآنِ پاک سے گہری محبت اور روحانی میلان نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے فنِ خطاطی میں مہارت حاصل کی اور جلد ہی ترکی سمیت کئی ممالک میں اپنی پہچان بنالی۔ علی زمان کو اسلامی خطاطی کے میدان میں شام، ملائیشیا، عراق اور ترکیے سمیت کئی ممالک میں بین الاقوامی اعزازات مل چکے ہیں۔
سن 2017 میں انہیں ترکی کے انٹرنیشنل Hilye-i Serif مقابلے میں صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے "Distinction Award” سے نوازا گیا، جو ان کے فن اور لگن کا عالمی اعتراف تھا۔

