واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سخت امیگریشن پالیسی کے تحت جرائم میں ملوث 80 ہزار تارکینِ وطن کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔
سینئر امریکی اہلکار کے مطابق زیادہ تر منسوخیاں تشدد، چوری، منشیات کے استعمال اور نشے میں ڈرائیونگ کے مقدمات کی بنیاد پر کی گئیں۔ اہلکار نے بتایا کہ ان میں سے 16 ہزار ویزے نشے میں ڈرائیونگ (DUI) کے کیسز جبکہ 12 ہزار ویزے تشدد کے الزامات کے باعث منسوخ کیے گئے۔
امریکی وزارتِ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق حالیہ مہینوں میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ویزوں کی منسوخی کی کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ اہلکاروں نے بتایا کہ اگست میں 6 ہزار طلبہ کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے کیونکہ ان کی میعاد ختم ہوچکی تھی یا وہ رہائشی شرائط پوری نہیں کر رہے تھے۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ ایک سیاسی کارکن چارلی کرک پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹس کرنے کے الزام میں مزید 6 افراد کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے۔ ان افراد پر امریکی قانون کے تحت نفرت انگیز تقاریر اور پرتشدد مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ویزا پالیسی میں سختی کا مقصد امریکا میں قیام پذیر غیر قانونی اور جرائم میں ملوث غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزوں کی اجتماعی منسوخی سے بعض بے گناہ افراد بھی متاثر ہوں گے، اور اس فیصلے سے امریکا کے تعلیمی و معاشی شعبوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

